اُڈپی 28/اپریل(ایس اؤنیوز)گائے کے گوشت کھانے کا الزام عائد کرکے بجرنگ دل کے کارکنوں نے ہوساڑو دیہات کے گاندمکی میں گذشتہ روز کورگا طبقہ کے عوا م پر حملہ کرکے ذات کی ہتک کئے جانے کے خلاف کرناٹکا دلت سنگھرش سمیتی مہا وکوٹا اُڈپی ضلع کی قیادت میں جمعہ کو اُڈپی ایس پی دفتر کے سامنے دھرنا دیا ۔ اور حملہ کرنے والے بجرنگ دل کارکنوں کو فوری گرفتار کرکے تڑی پار کرنے کا مطالبہ کیا ۔
کرناٹکا دلت سنگھر ش سمیتی کے ضلع سنچالک نارائن منور نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شودر طبقہ کے نوجوانوں کے ذہنوں میں مذہب کے نام پر نفرت کا بیج بوکر والدین کی خدمت اور تعظیم کرنے کے بجائے ان سے جانوروں کی تعظیم کرائی جارہی ہے، یہی چیز سماج پر تھوپنے کی منووادی طبقہ سازش کررہاہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں جمہوری نظام نہیں کے برابرہے، جس کے نتیجےمیں سماج سے امن غائب ہورہا ہے۔
دلت سنگھرش سمیتی امبیڈکر واد کے ریاستی تنظیمی سنچالک سندر ماسٹر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ غذائی روایت کو دلتوں پر تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے، ملک کے مختلف مقامات پر ایسی کارستانیاں انجام دی جارہی ہیں جو اب اُڈپی تک پہنچ گئی ہیں۔ غذاکاانتخاب ہمارا ہے، یہ کل بھی ہمارا تھا، آج بھی ہم اسے جاری رکھیں گے ، اس پر سوال کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ جنہوں نے کورگا ؤں پر حملہ کیا ہے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پولس ، کورگا طبقہ کے نوجوانوں کو گرفتار کرکے تھانہ لے جاکر ظلم کیاہے۔ اس کے نتیجے میں گاندمکی کے کورگا خاندان خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔سندر ماسٹر نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کورگا طبقہ کو بنیادی سہولیات فراہم کرنےکے بجائے ان کی غذا پر روک لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بھیم گرجنے کے ریاستی سنچالک اُدئیے کمار تلو رنے کہاکہ اس معاملے میں دلت لیڈر ، سابق ضلع پنچایت ممبر اننت موواڑی بی جے پی کے ساتھ شامل ہوکر اندرونی سازش کررہےہیں، مقامی رکن اسمبلی گوپال پجاری بھی خاموش ہیں، انہوں نے پولس سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی کے دباؤ میں آئے بغیر ملزموں کو فوری گرفتارکرے، انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا اگر پولس نے فوری بجرنگ دل کارکنوں کو گرفتار نہیں کیا بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے اورپولس کے خلاف وزیر داخلہ کو شکایت کریں گے۔ کرناٹکا کوموسوہاردا ویدیکے کے ضلعی صدر اور سنئیر مفکر جی راج شیکھر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گاندمکی کامعاملہ ملک بھر میں جاری دلت ظلم کی ایک کڑی ہے، سیاست دان اس معاملے میں خاموش ہیں، صرف ظلم ہی نہیں بلکہ اس پر اظہار نہ کرنا بھی قابل مذمت ہے۔
دھرنا ختم ہونےکے بعد ضلع ایس پی ، کے ٹی بال کرشنا کو میمورنڈم سونپتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ملزموں کو گرفتار کرکے اُنہیں سرحد پارکریں۔ معصوم نوجوانوں پر دائر کئے گئے مقدمات کو رد کریں، سوشیل نیٹ ورک پر امبیڈکر کی توہین کرنے والے کارکلا کے شریکانت کوگرفتارکریں۔ میمورنڈم وصول کرنے کے بعد ایس پی بال کرشنا نے کہا کہ معاملے کی جانچ جاری ہے اوربہت جلد ملزموں کو گرفتارکیا جائے گا۔اسی طرح امبیڈکر توہین کے تعلق سے بھی انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی بھی جانچ چل رہی ہے اس سلسلے میں بھی لازماً کارروائی کرنےکی یقین دہانی کرائی ۔ اس موقع پر شیام راج بھرتی، ایس ایس پرساد، شیکھر ہیجماڑی، وشوناتھ ، ولیم مارٹس، ہوساڑو گرام پنچایت کی ممبر شکنتلا نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر فنی راج، پروفیسر سرئیل میتھایس، ایس نارائن، عزیز ادیاور، یاسین کوڑی بینگرے وغیرہ موجود تھے۔
ہمیں اپنی پسند کی غذا کااستعمال کرنےدیں: ظالموں نے گھر کے اندر گھس کر جو کھانا ہم نے تیارکیا تھا اٹھاکر پھینکا، نوجوانوں کو کچلا، ڈنڈوں سے ماراپیٹا، میں روکنے گئی تو مجھے اپنی ذات کے عوض میری بے عزتی کرتے ہوئے دھمکی آمیز لہجہ میں کہا کہ ’’تو، کیسی پنچایت ممبر ہے ، تمہارا یہیں ریپ کریں گے تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں رہے گا‘‘۔ میں نے جب ہاتھ پیر پکڑ کر منت سماج کی تو بھی انہوں نے نہیں چھوڑا، اور کہا کہ ’’تمہیں مارمار کرختم کردیں گے تو کس کی ہمت ہے وہ آکر ہمیں پوچھ سکیں، اگر کسی نے پولس تھانے میں شکایت کی تو تمہارے 8خاندانوں کے گھر وں پر پٹرول ڈاکر آگ لگادیں گے‘‘ شکنتلا نے کہا کہ اس طرح کی دھمکیاں دے کر ہمیں خوف کے ماحول میں زندگی گزارنےپر مجبور کیا گیا ہے۔ شکنتلا نے کہاکہ ہمیں تحفظ فراہم کریں، ہمارے نوجوانوں پر دائرکئے گئے مقدمات کو واپس لیں، ہم جس غذا کو کھانے کے لئے استعمال کررہے ہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں۔

ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی : اُڈپی ضلع نگراں کار وزیر پرمود مدھواراج نے اُڈپی میں اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کورگا خاندان پر حملہ کرنے اور ہتک ذات کئے جانے والے معاملہ کی مجھے اطلاع ملی ہے، اسی وقت ایس پی کو فون سے رابطہ کرتے ہوئے ملزموں کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی ہیں، جس کے تحت پولس کارروائی کررہی ہے۔ قانون اپنا کام کرےگا، ہمیں اس میں کوئی مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر کوئی دوسری سیاسی پارٹی کی حمایت ہے بھی تو فرق نہیں پڑے گا۔
اس سے پہلے شائع شدہ خبر: